ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرینواس پرساد نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اگلے انتخابات میں سدرامیا کو ہرانے کا عزم

سرینواس پرساد نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اگلے انتخابات میں سدرامیا کو ہرانے کا عزم

Tue, 18 Oct 2016 05:59:42    S.O. News Service

بنگلورو۔17/اکتوبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیاکی طرف سے حالیہ کابینہ ردوبدل کے دوران وزارت سے برطرف کئے جانے پر نالاں سابق وزیر وی سرینواس پرساد نے آج اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ ودھان سودھا میں اسپیکر کے بی کولیواڈ سے ملاقات کرکے وی سرینواس پرساد نے اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اسپیکر کی طرف سے استعفیٰ کی وجہ دریافت کئے جانے پر انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا کے آمرانہ رویہ سے ناراض ہوکر انہوں نے اپنی رضامندی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔استعفیٰ دینے کیلئے ان پر کسی بھی حلقہ سے کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کابینہ میں ردوبدل کے متعلق اپنے طور پر فیصلہ لینے کی بجائے دوسرے لوگوں کے بہکاوے میں آکر غلط فیصلے کئے۔ انہوں نے کہاکہ ننجنگڈھ حلقہ کے ووٹروں سے مشورہ کے بعد ہی انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد بھی کافی دنوں تک وہ اپنی اسمبلی رکنیت پر برقرار رہے، لیکن اب وہ برقرار رہنا نہیں چاہتے۔ کے بی کولیواڈ نے کسی بھی رکن اسمبلی کے استعفیٰ کی صورت میں برسر عام وجہ نمائی کی روایت شروع کی ہے، اس سے پہلے کسی بھی رکن اسمبلی کو استعفیٰ دیتے وقت اپنے استعفیٰ کی وجہ برسر عام بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔پہلی بار کے بی کولیواڈ نے پورے میڈیا کی موجودگی میں سرینواس پرساد سے استعفیٰ کی وجہ دریافت کی اورانہوں نے اس پر اسپیکر کو جواب بھی دیا۔تاہم اسپیکر نے سرینواس پرساد کا استعفیٰ فوری طور پر قبول نہیں کیا اور اس پر غور کرکے مناسب کارروائی کا یقین دلایا۔ استعفیٰ دینے کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرینواس پرساد نے آنے والے انتخابات میں سدرامیا کو شکست دلانے کا اعلان کیا اور کہاکہ آنے والے دنوں میں سدرامیا کو شکست سے ہمکنار کرنا ہی ان کا واحد مقصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اپنی کابینہ میں نااہل لوگوں کو جگہ دی ہے اور اہل قائدین کو بغیر مشورہ کے برطرف کیاہے۔ کانگریس اعلیٰ کمان بھی سدرامیا کے آگے بے بس ہوچکی ہے۔اسی لئے وہ سدرامیا جیسے آمر لیڈر کی رہنمائی میں قیادت پر برقرار رہنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں تک ریاست کے کانگریس امور ہیں وہ پارٹی کے تمام کارکنوں کے نہیں، بلکہ چھ لوگوں کی مٹھی میں بند ہوچکے ہیں۔ان میں ڈگ وجئے سنگھ، ملیکارجن کھرگے، ڈی کے شیوکمار، ڈاکٹر پرمیشور، اور سدرامیا شامل ہیں۔ 
 


Share: